زکوٰۃ اور بیت المال کے بجٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع زکوٰۃ اور بیت المال کے بجٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں وزارت صحت،محکمہ زکوٰۃ اور بیت المال کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔ آڈیٹرجنرل نے زکوٰۃ اور... زکوٰۃ اور بیت المال کے بجٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں وزارت صحت،محکمہ زکوٰۃ اور بیت المال کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔

آڈیٹرجنرل نے زکوٰۃ اور بیت المال بجٹ پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے جس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

 آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق سال 20-2019 میں محمکہ زکوٰۃ کا بجٹ 7 ارب 38 کروڑ روپے تھا، اور بجٹ کی رقم کا 13 فیصد آڈٹ ہوا جو 96 کروڑ 10 لاکھ روپے بنتے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 96 کروڑ 10لاکھ روپے میں سے 57 کروڑ 40 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اور آڈیٹر جنرل کے آڈٹ میں کُل رقم کے 60 فیصد میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی پورٹ کے مطابق بیت المال کا بجٹ 5 ارب  روپے ہے، اور اس میں سے  3.1 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

وزارت صحت نے بھی سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرادی

اس کے علاوہ وزارت صحت نے بھی کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے۔

وزارت صحت کے مطابق اسلام آباد میں 1 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے نیا آئسولیشن اسپتال تعمیر کیا جارہا ہے، اس کی تعمیر کا آغاز 26 مارچ سے ہوا ہے  اور تکمیل 5 مئی تک متوقع ہے۔

رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ آئسولیشن اسپتال میں مشتبہ مریضوں کے لیے تمام سہولیات موجود ہوں گی، اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لیے خصوصی مالی پیکج کی منظوری دی ہے۔

 ‘سپریم کورٹ نےکورونا پر حکومتی اقدامات پر ازخود نوٹس لے رکھا ہے’

خیال رہے کہ 10 اپریل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ناکافی اقدامات پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

عدالت نے گذشتہ سماعتوں میں کورونا وائرس پر حکومتی اقدامات پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا اور محکمہ  زکوٰۃ اور بیت المال کا آڈٹ کروانے کا حکم دیتے ہوئے  رپورٹ طلب کی تھی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ 4 مئی کو ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرے گا جس کے لیے اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز اور چیف سیکرٹریز کو نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔

alphanew