پراٹھا کھانے کیلیے 30 منٹ پہلے قرنطینہ توڑنے والے شخص پر ہزار ڈالر کا جرمانہ پراٹھا کھانے کیلیے 30 منٹ پہلے قرنطینہ توڑنے والے شخص پر ہزار ڈالر کا جرمانہ
سنگاپور میں کورونا وائرس میں مبتلا شخص نے پراٹھا کھانے کے لیے 30 منٹ پہلے قرنطینہ توڑ دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے... پراٹھا کھانے کیلیے 30 منٹ پہلے قرنطینہ توڑنے والے شخص پر ہزار ڈالر کا جرمانہ

سنگاپور میں کورونا وائرس میں مبتلا شخص نے پراٹھا کھانے کے لیے 30 منٹ پہلے قرنطینہ توڑ دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا شخص نے چند ڈالرز میں پراٹھا خریدنے کی خاطر قرنطینہ کا وقت ختم ہونے سے 30 منٹ پہلے اسے توڑ دیا جس پر حکام نے اسے ایک ہزار سنگاپورین ڈالر کا جرمانہ کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ سنگاپور کے رہائشی 22 سالہ نوجوان کو گزشتہ ماہ کورونا وائرس کے شبے میں گھر سے نہ نکلنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن نوجوان نے قرنطینہ کا وقت ختم ہونے سے 30 منٹ پہلے اسے توڑ دیا اور گھر سےباہرنکل آیا اور قریب موجود ریسٹورینٹ میں پراٹھا کھانے بیٹھ گیا۔۔

نوجوان کی نگرانی پر مامور اہلکار نے اسے ریسٹورینٹ میں دیکھا تو فوری اس سے رابطہ کیا جس پر نوجوان نے بتایا کہ بھوک کی وجہ سے وہ قریب ہی موجود ریسٹورینٹ سے کھانا لینے گیا تھا۔

نوجوان کی نگرانی پر مامور اہلکار نے اس کی اطلاع حکام کو کی جس پر اسے ایک ہزار ڈالر کا جرمانہ کردیا گیا۔

سنگاپور میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 16 ہزار سے زائد ہے اور 500 سے زائد افراد وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں جس کے باعث وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔

سنگاپور ڈیزز ایکٹ کے تحت اس طرح کی خلاف ورزیاں کرنے پر 10 ہزار ڈالرز تک کا جرمانہ اور ساتھ ہی 6 ماہ کی قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

alphanew