کیا کورونا وائرس نوٹوں سے بھی لگ سکتا ہے؟ کیا کورونا وائرس نوٹوں سے بھی لگ سکتا ہے؟
مہلک کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ایسا خوف پھیلایا ہوا ہے کہ لوگوں میں کوئی بھی چیز چھونے سے قبل یہ... کیا کورونا وائرس نوٹوں سے بھی لگ سکتا ہے؟

مہلک کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ایسا خوف پھیلایا ہوا ہے کہ لوگوں میں کوئی بھی چیز چھونے سے قبل یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اس پر وائرس موجود نہ ہو جو انسانی جسم میں منتقلی کا سبب بنے۔

اس صورتحال میں لوگ اب  تذبذب کا شکار نظر آرہے ہیں کہ کیا کورونا وائرس کے جراثیم پیسوں سے بھی پھیل سکتے ہیں؟ کیونکہ اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے رقوم کی منتقلی کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس سے نوٹوں کے ذریعے وائرس پھیلنے سے متعلق بھی قیاس آرائیاں ہیں۔

اس ضمن میں عالمی ادارہ صحت نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہےکہ  فی الحال ایسے کوئی شواہد موصول نہیں ہوئے ہیں جس سے معلوم ہوا ہو کہ کورونا وائرس کے جراثیم نوٹوں اور سکوں کو چھونے سے بھی پھیل سکتے ہیں تاہم اب تک صرف یہی بات واضح ہے کہ متاثرہ شخص کے سانس لینے سے ہوا میں معلق ذرات سے دوسرا انسان وائرس سے متاثر ہوسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ سماجی فاصلہ اختیار کرنے کے ساتھ بار بار صابن سے 20 سیکنڈز تک ہاتھ دھوتے رہیں اور گھروں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

ڈبلو ایچ او  نے کہا کہ گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال کرلیں لیکن ہاتھوں سے انجام دینے والے کاموں کے لیے گلوز ضرور استعمال کریں۔

اس سے قبل بھی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کورونا وائرس سے متعلق طبی ماہرین کے سامنے عوام کے خدشات سے بھرپور سوالات رکھے جن کے ماہرین نے مفصل جواب دیے تھے۔

alphanew