وفاقی کابینہ نے پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کی منظوری دے دی وفاقی کابینہ نے پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کی منظوری دے دی
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم عمران... وفاقی کابینہ نے پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کی منظوری دے دی

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کی منظوری دی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی صورتحال اور دیگر امور کا جائزہ لیا گیا جبکہ کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کو پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس کے بعد کابینہ نے تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کی منظوری دی۔

وزیراعظم عمران خان نے تحقیقاتی رپورٹ پر ایک اور تحقیقاتی کمیشن بنانے کی بھی ہدایت کی اور یہ کمیشن پاور سیکٹر میں مبینہ کرپشن سے متعلق فارنزک اور مزید تحقیقات کرے گا۔

اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نےاس عزم کو دہرایا کہ عوام کو کسی کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے دیں گے، کہیں بھی گٹھ جوڑ یا ملی بھگت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بریفنگ کے دوران خسرو بختیار اور رزاق داؤد اجلاس سے غائب

دوسری جانب وفاقی کابینہ میں پاور سیکٹر سے متعلق انکوائری رپورٹ پر بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور خسرو بختیار، وزیراعظم عمران خان کے مشیربرائے تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاون خصوصی ندیم بابر موجود نہ تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کو پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔

وہیں بجلی منافع جات رپورٹ میں بھی جہانگیر ترین گروپ، سلیمان شہباز اور خسرو بختیار کے بھائی کانام شامل ہے۔

alphanew