وزیراعظم عمران خان کی علماء کی مشاورت سے رمضان کیلئے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت وزیراعظم عمران خان کی علماء کی مشاورت سے رمضان کیلئے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت
وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے ملاقات کی جس میں لاک ڈاؤن کی صورتحال میں رمضان کے... وزیراعظم عمران خان کی علماء کی مشاورت سے رمضان کیلئے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت

وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے ملاقات کی جس میں لاک ڈاؤن کی صورتحال میں رمضان کے مہینے میں مساجد میں عبادات کا معاملہ زیر غور آیا۔

ملاقات میں صدرِ مملکت عارف علوی کی زیرصدارت علماء سے کل ہونے والی ملاقات سے متعلق بھی بات چیت کی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ علماء کی مشاورت سے ماہ رمضان کیلئے لائحہ عمل بنائیں۔

وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم عمران خان آئندہ ہفتے علمائے کرام سے ملاقات کریں گے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے بتایا کہ صدرمملکت کی زیرصدارت علمائے کرام کے مشاورتی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں اور یہ اجلاس ایوان صدر میں کل ہوگا۔

وزیر مذہبی امور نے مزید بتایا کہ اجلاس میں ماہ رمضان، تراویح، نماز جمعہ کے اجتماعات پرلائحہ عمل بنایا جائے گا اور اس حوالے سے تمام صوبائی حکومتوں سے تجاویز طلب کی گئیں ہیں۔

پیر نور الحق قادری نے کہا کہ صدرعارف علوی کی ہدایات پر اتفاق رائے کیلئے مشاورت جاری ہے، علماء اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھرسے علمائے کرام گورنر ہاؤسزسے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کریں گے، اور صدر مملکت تمام علمائے کرام کو حکومتی اقدامات پر اعتماد میں لیں گے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن ہے جبکہ نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ کے اجتعماعات کو انتہائی محدود کردیا گیا ہے البتہ اب رمضان کے قریب آتے ہی خدشات بڑھ گئے ہیں کہ لوگ بڑی تعداد میں مساجد کا رخ کریں گے جبکہ نماز تراویح کا بھی معاملہ حل طلب ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ دنوں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے کہا تھا کہ مساجد پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں ہوگا اور رمضان میں مساجد میں تراویح کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ جب حکومتی کمیٹی کا چیئرمین ہی حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرے گا تو عام شہریوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔

alphanew