مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کی کاپی سپریم کورٹ کو موصول
اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے مبینہ مراسلے کی کاپی چیف جسٹس پاکستان کے آفس کو موصول ہوگئی۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی... مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کی کاپی سپریم کورٹ کو موصول

اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے مبینہ مراسلے کی کاپی چیف جسٹس پاکستان کے آفس کو موصول ہوگئی۔

قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری  نے ایوان میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ مبینہ مراسلے کی کاپی چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو بھجوارہے ہیں۔

ذرائع کا کہناہےکہ ڈپٹی اسپیکر کے اعلان کے بعد سیکرٹری اسمبلی کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان کو سربمہر مراسلے کی کاپی بھجوائی گئی جو چیف جسٹس پاکستان کے سیکرٹری نے وصول کی۔

ذرائع کے مطابق مبینہ مراسلے کی کاپی چیف جسٹس کو پیش کی جائے گی۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بھی ٹوئٹ کے ذریعے خط سپریم  کورٹ کو موصول  ہونے کی تصدیق کی ہے۔

گزشتہ دنوں قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے مبینہ مراسلے پر اِن کیمرا بریفنگ کا اعلان کیا تھا۔

مبینہ مراسلے کا معاملہ  کیا ہے؟

واضح رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے خط لہرایا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ہے اور وہ ثبوت ہے۔

عمران خان کے دعوے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے خط سامنے لانے اور ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

عمران  خان کی جانب سے پہلے مبینہ دھمکی آمیز مراسلہ بھجوانے والے ملک کا نام نہیں بتایا گیا تاہم قوم  سے خطاب  میں انہوں نے اس میں امریکا کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا۔

عمران خان کی جانب سے امریکا کا نام لینے کے بعد سابق  وفاقی وزرا نے بھی اسے حکومت کی تبدیلی کی بین الاقوامی سازش قرار دیا تھا جب کہ سابق وزیراعظم نے اس پر عدالتی کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے۔

سابق حکومت کی جانب سے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے میں بار بار امریکا کا نام لیے جانے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ بھی کئی بار سابق حکومت  کے اس دعوے کی تردید کرچکا ہے اور  امریکا کہنا ہےکہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی یا تحریک عدم  اعتماد سے اس  کا کوئی تعلق نہیں۔

alphanew