الیکشن کمیشن پہلے ہی نواز کے ساتھ ہے اب وہ ججز کو ساتھ ملارہے ہیں، وزیراعظم کا الزام
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت تو معمولی چیز ہے، جان بھی چلی جائے تو ‘تین چوہوں’ کو نہیں چھوڑوں گا، پاکستان... الیکشن کمیشن پہلے ہی نواز کے ساتھ ہے اب وہ ججز کو ساتھ ملارہے ہیں، وزیراعظم کا الزام

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت تو معمولی چیز ہے، جان بھی چلی جائے تو ‘تین چوہوں’ کو نہیں چھوڑوں گا، پاکستان آکر نوا ز شریف آزاد عدلیہ کو کبھی چلنے نہیں دیں گے، الیکشن کمیشن پہلے ہی ان کے ساتھ ہے اور اب وہ سپریم کورٹ کےججز کو اپنے ساتھ ملارہے ہیں۔

 کمالیہ میں جلسے سے خطاب میں وزیراعظم نے آصف زرداری کو سب سے بڑی بیماری، شہباز شریف کو چیری بلاسم شریف اور فضل الرحمان کو ڈیزل کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ اپوزیشن کا پلان ہےکہ ان کی حکومت ختم کرکے اقتدار میں آکر سب سے پہلے نیب ختم کرے، وہ وزیراعظم رہے تو یہ سب جیل میں ہوں گے، آصف زرداری، فضل الرحمان اور شہباز شریف کا شکر گزار ہوں، جن کی شکلیں دیکھ کر تحریک انصاف کے ناراض کارکن پارٹی میں واپس آگئے۔

وزیراعظم نےکہا کہ لندن میں بیٹھا شخص واپس آکر سب سے پہلے چینلز میں پیسا چلائے گا، الیکشن کمیشن پہلے ہی اس کے ساتھ ہے، اس کے بعد یہ پاکستان کی عدلیہ پر حملہ کرےگا، ابھی سے یہ عدلیہ کو تقسیم کررہا ہے،ابھی سے سپریم کورٹ کےججز کو اپنے ساتھ ملارہا ہے، یہ کبھی آزاد عدلیہ کو کبھی چلنے نہیں دےگا کیونکہ اپنے کیسز ختم کرنے ہیں اور پھر اگلا حملہ پاکستان کی فوج پر ہوگا، نواز شریف کو تب سے جانتا تھا جب بیچارا کرکٹ کھیلنےکی کوشش کرتا  تھا، نوازشریف کرکٹ بھی اپنے امپائر کھڑے کرکےکھیلتا تھا۔

عمران خان نےکہا کہ نواز شریف نے  ایل ڈی اے کے پلاٹ دے کر ججز کو خریدا، چھانگا مانگا کی سیاست شروع کی، سیاستدانوں کو چھانگا مانگا میں بند کیا کیونکہ دوسری طرف بھی بولی لگ رہی تھی، گزشتہ دور میں یہ چھپ چھپ کر نریندر مودی سے مل رہا تھا، بھارتی صحافی کتاب میں لکھتی ہیں کہ نریندر مودی اور نوازشریف چھپ چھپ کر مل رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سارے لندن میں ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے گوالمنڈی میں نہیں ملکہ برطانیہ کے محل میں پیدا ہوئے تھے، ان سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ ایک ہی طریقہ ہے عمران خان کی حکومت گرا کر اقتدار میں آؤ، مشرف نے ان کو این آر او دیا یہ کوشش کررہے تھے کہ میں بھی این آر او دوں، ان تین چوہوں کو پیغام دے رہا ہوں کہ حکومت جانی تو معمولی چیز ہے، میری جان بھی چلی جائے تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔

شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ شہبازشریف نے کہا کہ یورپی یونین کے سفیر پر تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی، شہباز شریف کہتے ہیں کہ مجھے ایبسلوٹلی ناٹ نہیں کہنا چاہیے تھا، جب ہم نے ان کی جنگ میں شرکت کی تو کیا ملا پاکستان کو؟ میں کبھی نہیں کہتا کہ کسی سے اپنے تعلقات خراب کریں، تعلقات اچھے کرنے میں اور ان کے جوتے پالش کرنے میں فرق ہے، شہبازشریف اور نوازشریف بیرونی قوتوں کی غلامی اس لیے کریں گے کہ ان کا چوری کا پیسا باہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے چپڑاسی مقصود کے بینک میں صرف 375 کروڑ روپے آجاتا ہے، نوکروں کے بینک میں 16 سو کروڑ روپیہ آجاتا ہے ، کیس لگے ہوئے ہیں کبھی کمر میں درد ہوجاتا ہے کبھی وکیل نہیں آتا، چوتھا فنکار وہ ہے جو لندن میں بیٹھا ہوا ہے، ا س کی بیٹی کے نام پر چار بڑے محلات نکل آئے ، یہ محلات ہم نے نہیں نکالے پانامہ پیپرز میں آئے تھے۔

وزیراعظم نےکہا کہ اللہ نے انسان کو اس فیصلےکا حق نہیں دیا کہ وہ نیوٹرل ہوجائے، انسان کو اچھائی یا برائی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، جب قوم اچھے اور برے کی تمیز  نہیں کرتی وہ مرجاتی ہے، اللہ کا حکومت کے لیے حکم ہے کہ انصاف دو اور  قانون کی بالادستی قائم کرو۔

 

alphanew