تمھیں اب بچانے کوئی نہیں آئےگا، استعفیٰ دو اور گھر جاؤ، مریم کی عمران خان پر تنقید
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کان کھول کر سن... تمھیں اب بچانے کوئی نہیں آئےگا، استعفیٰ دو اور گھر جاؤ، مریم کی عمران خان پر تنقید

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کان کھول کر سن لو، تمھیں اب بچانے کوئی نہیں آئےگا۔

مریم نواز  نے لاہورمیں کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ عمران خان دھمکیاں دیتے ہیں نکال دینگے،  یہ ان کو نہیں نکال سکتا، عمران خان مکافات عمل کا شکار ہیں، بڑی رعونت سے کہتے تھے این آر او نہیں دینگے، آج خود ایڑھیاں رگڑ  رگڑ کر  این آر او مانگ رہے ہیں ۔

مریم نے کہا کہ تم اب استعفیٰ دو اور گھر جاؤ،کوئی پوسٹنگ، کوئی ٹرانسفر تبدیلی کروڑوں سے کم میں نہیں ہوتی، تمھارا یوم حساب قریب ہے، عوام آنے والے دنوں میں میڈیا پر ثبوتوں کی بھرمار دیکھیں گے۔

لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے وزیر اعظم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی چوری کی ہوشربا داستانیں کھل گئیں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔ عمران خان مکافات عمل اور بڑے بول کا شکار ہوئے، اقتدار کی کشتی اب ڈول رہی ہے جبکہ نیازی کا اقتدارعوام کی بددعاؤں کھے باعث ختم ہو رہا ہے۔

مریم نواز نے حکومت کے منحرف اراکین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ نیازی بڑے پتوں کی باتیں کرتا ہے، تمارے تمام پتے خزاں کی طرح جھڑ چکے ہیں، پارٹی کے لوگ ایک ایک کرکے تمہیں چھوڑ کر جارہے ہیں، اب صرف ایک پتہ بچا ہے استعفیٰ دو اور گھر جاؤ۔

مریم نواز کا وزیر اعظم کے 27 مارچ کے جلسے پر طنز کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان سرکاری وسائل خرچ کرکے جلسے کررہے ہیں جس میں عوام سے اپنے لیے گھروں سے باہر نکلنے کی اپیل کی جارہی ہے، لیکن اب حساب دینے کا وقت آگیا ہے، عوام ضرور نکلیں گے مگر تم سے حساب لینے اور گھر بھیجنے کیلئے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا قافلہ میری اور حمزہ شہباز کی قیادت میں نکلے گا، اسلام آباد جارہی ہوتی ہوں تو لوگ کہتے ہیں خدا کیلئے نیازی سے ہماری جان چھڑائیں۔ جی ٹی روڈ کا یہ سفر ملک کو دوبارہ ترقی کی جانب لے کرجائے گا جبکہ یہ سفر ‘ووٹ کو عزت دو’ کی تحریک کو بھی عزت دلوانے جارہا ہے۔

مریم نواز نے ن لیگی کارکنان کو سراہتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی کامیابی کا سہرا کارکنوں کو جاتا ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات کا سامنا کیا اور ڈٹ کر کھڑے رہے۔

alphanew