اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران فاروق قتل کیس کے تینوں مجرمان کی اپیلیں مستردکردیں
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں سزا یافتہ تینوں مجرموں کی اپیلیں مستردکردیں۔ اسلام آباد ہائی... اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران فاروق قتل کیس کے تینوں مجرمان کی اپیلیں مستردکردیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں سزا یافتہ تینوں مجرموں کی اپیلیں مستردکردیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تینوں مجرموں کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزاؤں کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

 عدالت نے اپیل کنندگان کے وکلا اور ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر رکھا تھا۔

خیال رہےکہ اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 18 جون  2020 کو ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ کو سناتے ہوئےکیس میں گرفتار ہونے والے تینوں افراد خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور دس، دس لاکھ روپے جرمانہ مقتول کی اہلیہ کو بطور زر تلافی ادا کرنےکا حکم بھی دیا تھا۔

 ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن میں ان کے گھر کے پاس شام ساڑھے پانچ بجے اینٹوں اور چھریوں کے وار سے قتل کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ نے پانچ دسمبر 2015 کو مقدمہ درج کیا تھا، پراسیکیوشن کے مطابق محسن علی سید اور کاشف کامران پہ الزام تھا کہ ان دونوں نے مل کر عمران فاروق کو قتل کیا۔ محسن علی سید نے مقتول کو پیچھے سے پکڑا اور کاشف  کامران نے ان پر اینٹوں اور چھریوں کے وار کیے۔ 

کیس میں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے 4500 سے زائد لوگوں کے انٹرویو کیے جب کہ 7600 سے زائد کاغذات کی چھان بین بھی کی تھی۔

 برطانیہ نے اس شرط پر کیس سے متعلقہ دستاویزات شیئر کیں کہ جرم ثابت ہونے پر بھی ملزمان کو سزائے موت نہیں ہوگی، جس کے بعد جولائی 2019 میں صدارتی آرڈیننس لایا گیا  تھا جس میں 1860 کے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن تین میں ایک تبدیلی کی گئی تھی۔

alphanew