روس اور یوکرین کی جنگ میں اسرائیل کس طرح فائدہ اٹھا رہا ہے؟
روس کی جانب سے یوکرین پر حملے نےکورونا  کے باعث پہلے سے مشکلات کا شکار عالمی معیشت پر مزید برے اثرات مرتب کیے ہیں،... روس اور یوکرین کی جنگ میں اسرائیل کس طرح فائدہ اٹھا رہا ہے؟

روس کی جانب سے یوکرین پر حملے نےکورونا  کے باعث پہلے سے مشکلات کا شکار عالمی معیشت پر مزید برے اثرات مرتب کیے ہیں، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں  تقریباً ساڑھے7 سال کی بلند ترین سطح  پر  پہنچ چکی ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دور حکومت میں نیٹو ممالک پر زور دیتے رہےکہ وہ اپنا دفاعی بجٹ بڑھائیں، ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ یورپی ممالک اپنے دفاع کا مالی بوجھ امریکا پر ڈال رہے ہیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کے 2 فیصد سے زیادہ رکھیں۔

اس وقت ٹرمپ کی بات پر یورپی ممالک نے توجہ نہیں دی لیکن اب جب کہ ٹرمپ عہدہ صدارت پر نہیں رہے تو روسی صدر پیوٹن یورپی ممالک اور نیٹو سے وہ کام کروا رہے ہیں جو سابق امریکی صدر نہیں کرواسکے۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق یوکرین کی جنگ نے یورپ کو ‘خواب غفلت ‘ سے بیدار کیا ہے، اس کا نتیجہ اسٹاک مارکیٹوں کی اسکرینوں پر دیکھا جاسکتا ہے جہاں اسلحہ ساز کمپنیاں خوب منافعے میں جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جرمن اسلحہ ساز کمپنی رائن میٹل کے حصص کی قدر میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، اٹلی کی لیونارڈو کے حصص کی قدر میں 17فیصد، فرانسیسی کمپنی تھیلز کے حصص کی قدر میں 13 فیصد، برطانوی کمپنی بی اے ای کے حصص کی قدر میں 14 فیصدر اور سوئیڈش کمپنی ساب کے حصص کی قدر میں17فیصد اضافہ ہوا ہے۔

روسی اقدام کے باعث دنیا بھر میں خصوصاً یورپ میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، ایسے میں یورپی ممالک دفاعی بجٹ میں اضافے پر مجبور ہیں اور یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کی بھرپور مالی وعسکری مدد کی جارہی ہے۔

ایسی صورتحال میں اسرائیل کی اسلحہ ساز کمپنیاں بھی خوب منافع کما رہی ہیں، جن میں اسرائیلیاں کمپنیاں ایلبٹ سسٹمز، اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز اور رافائل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز شامل ہیں، ان میں سے ایلبٹ سسٹمز واحدکمپنی ہے جو کہ اعلانیہ اسلحہ فروخت کرتی ہے، اس کےحصص کی قدر میں صرف 2 روز کے دوران 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیلی اخبارکے مطابق اسرائیلی کمپنیوں کو یورپ بھر سے اسلحےکی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر وہ ممالک جن کی روس کے ساتھ سرحد ملتی ہے یا وہ یوکرین کے قریب واقع ہیں، وہ اسرائیلی اسلحےکی فوری خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

ہنگری، بلغاریہ، چیک ریپبلک، رومانیہ، سلواکیہ، سوئیڈن جلد ازجلد اسرائیلی ڈرون، الیکٹرانک وارفیئرسسٹمز، کنٹرول اینڈ مانیٹرنگ سسٹمز، کمیونیکیشن آلات اور جدید اسلحے کی فراہمی چاہتے ہیں۔

ان کے علاوہ مغربی یورپ کے معاشی لحاظ سے مضبوط اور بڑے ممالک بھی روسی سرحد کے قریبی واقع ممالک، خاص طور پر نیٹو کے رکن ممالک کو اسلحہ کی فراہمی پر غور کر رہے ہیں۔

اسرائیلیاں کمپنی ایلبٹ سسٹمز نے 2021 میں بھی جرمنی کو بڑی تعداد میں اسلحہ فروخت کیا تھا جس کی رقم جرمنی کے دفاعی بجٹ کے تقریباً 19 فیصد تھی، اس اسلحے میں انفرا ریڈ میزائل شکن نظام، الیکٹرانک وار فیئر سسٹمز ، رات میں دیکھنےکے لیے استعمال ہونے والے آلات اور کمیونیکشن سسٹمز شامل تھے۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق یورپ کی پہلی اور دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کا حامل ملک جرمنی ‘جو کہ طویل عرصے سے امن پسندی اور غیرجانبداری کی پالیسی پر گامزن رہا ہے’ بھی اپنے دفاعی بجٹ میں فوری اضافے پر مجبور ہوگیا ہے۔

گذشتہ دنوں جرمن چانسلر نے دفاعی بجٹ ایک کھرب یورو مختص کرنےکے ساتھ دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 2 فیصد سے زیادہ رکھنےکا اعلان کیا تھا، جرمنی کی جانب سے یوکرین کو دفاع کے لیے اسلحہ بھی فراہم کیا جارہا ہے۔

یوکرینی یہودیوں کو اسرائیل میں آباد کرنےکا منصوبہ

ایسے وقت میں جب نیٹو کے رکن ممالک اور یورپی ممالک کی جانب سے  یوکرین کی بھرپور مالی وعسکری مدد کی جارہی ہے، مشرق وسطیٰ کا ملک اسرائیل یوکرین میں آباد یہودیوں کو لا کر اپنے ملک میں بسانےکی کوششوں میں مصروف ہے اور اس کے لیے شہریت کے قانون میں بھی نرمی کی جارہی ہے۔

ایک برطانوی نیوز ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل یوکرین کی جنگ کو اپنے حق میں استعمال کررہا ہے اور یوکرینی یہودیوں کو اسرائیل میں آباد ہونے پر زور دے رہا ہے تاکہ عرب آبادی کے مقابلے میں یہودیوں کی تعداد میں اضافہ کرسکے۔

alphanew