کراچی میں کورونا وائرس سے بڑے پیمانے پر اموات کی خبریں غلط نکلیں کراچی میں کورونا وائرس سے بڑے پیمانے پر اموات کی خبریں غلط نکلیں
کراچی میں کورونا وائرس سے بڑے پیمانے پر اموات کی خبریں غلط نکلیں، تحقیق کے مطابق کراچی میں گزشتہ ایک ماہ میں ہونے والی... کراچی میں کورونا وائرس سے بڑے پیمانے پر اموات کی خبریں غلط نکلیں

کراچی میں کورونا وائرس سے بڑے پیمانے پر اموات کی خبریں غلط نکلیں، تحقیق کے مطابق کراچی میں گزشتہ ایک ماہ میں ہونے والی تمام اموات کی وجہ کورونا نہیں۔

15 مارچ سے 13 اپریل تک ہونے والی 759 اموات کی وجہ کچھ اور ہے۔ جیو نیوز نے ایدھی ہومز میں غسل دی گئی میتوں کے لواحقین سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ 31 مارچ کو انتقال کرجانے والی خاتون کے علاوہ کسی کی وجہ موت کورونا نہیں تھی۔

ایدھی ہومز میں 15 مارچ سے 31 مارچ تک 371 میتوں کو غسل دیا گیا جن میں 249 مرد اور 121خواتین تھیں۔

ان افراد کے لواحقین کاکہنا ہے کہ اکثر افراد طویل عرصے کسی نہ کسی عارضے میں مبتلا تھے اور مرنے والوں کے لواحقین کے پاس اسپتالوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں وجہ موت درج ہے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد کا انتقال دل کا دورہ یا فالج کے اٹیک سے ہوا، کینسر، جگر اور گردے کی بیماریاں بھی انتقال کا باعث بنیں، ایک شخص چھالیہ گلے میں پھنس جانے سے انتقال کرگیا۔

15 مارچ سے 31 مارچ تک غسل دی گئی میتوں میں اکثر کی عمر 50 سال سے زیادہ تھی۔

مارچ میں مرنے والوں میں سے 358 افراد کی عمر 41 سے 88 سال کے درمیان تھی۔

یکم اپریل سے 13 اپریل تک ایدھی کے 3 سرد خانوں میں 388 میتیں لائی گئیں اور سب سے زیادہ 299 میتیں ایدھی ہوم سہراب گوٹھ میں لائی گئیں۔

13 دن میں 25 میتیں موسیٰ لین کے سرد خانے میں لائی گئیں اور یکم اپریل سے 13 اپریل تک 64 میتیں ایدھی ہوم کورنگی میں لائی گئیں۔

اپریل کے ابتدائی 13 دن میں مرنے والوں میں 212 مرد اور 176 خواتین تھیں۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس سے پاکستان میں اب تک 6 ہزار 879 افراد متاثر اور 128 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے صرف سندھ میں 45 اموات ہوئی ہیں۔

alphanew