کورونا: سوئس ادارے نے لاک ڈاؤن کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھادیے کورونا: سوئس ادارے نے لاک ڈاؤن کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھادیے
سوئٹزرلینڈ کے تحقیقاتی ادارے سوئس پروپیگنڈا ریسرچ نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق چند حقائق کی نشاندہی... کورونا: سوئس ادارے نے لاک ڈاؤن کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھادیے

سوئٹزرلینڈ کے تحقیقاتی ادارے سوئس پروپیگنڈا ریسرچ نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق چند حقائق کی نشاندہی کی ہے۔

ادارے نے لاک ڈاؤن کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقدامات کے نتائج کہیں کورونا سے زیادہ تباہ کن تو نہیں ثابت ہورہے؟

ریسرچ گروپ کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں کہا گیا ہے کہ اس بات میں فرق جاننا ضروری ہے کہ کوئی مرِیض کورونا سے مرا یا کورونا کے ساتھ دیگر بیماریوں سے انتقال ہوا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ کئی کیسز میں پوسٹ مارٹم رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پہلے سے لاحق بیماریوں نے مریض کو موت کے دہانے تک پہنچایا لیکن سرکاری اعداد و شمار میں اس کا ذکرتک نہیں کیا جاتا۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا، جاپان اور سوئیڈن جیسے لاک ڈاؤن نہ کرنے والے ممالک میں لاک ڈاؤن کرنے والے ممالک کے مقابلے میں حالات نے کوئی زیادہ منفی رخ اختیار نہیں کیا۔

رپورٹ میں کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے رجحان کے پیدا کیے جانے والے تاثر کو گمراہ کُن قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جب ٹیسٹنگ زیادہ ہوگی تو ظاہر ہے کہ کیسز بھی زیادہ بڑی تعداد میں نظر آئیں گے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ مثبت ٹیسٹ اور کُل ٹیسٹ کا تناسب 5 سے 25 فیصد کے درمیان ٹھہرا رہتا ہے یا پھر بہت آہستہ بڑھتا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے معیشتیں سست روی کا شکار ہیں جبکہ پاکستان سمیت مختلف ممالک نے کورنا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کو سب سے مؤثر ہتھیار سمجھ کر اختیار کیا ہوا ہے۔

کئی ممالک اس شش وپنج میں ہیں کہ وہ لاک ڈاؤن سے معیشت کو ہونے والا نقصان برداشت کریں یا پھر انسانی جانوں کا ضیاع ہونے دیں۔

alphanew