وزیراعظم کی عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے قرضوں میں ریلیف کے فیصلے کی تعریف وزیراعظم کی عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے قرضوں میں ریلیف کے فیصلے کی تعریف
وزیر اعظم عمران خان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بینک اور جی 20 ممالک کی جانب سے ترقی پذیر  ممالک کو قرضوں کی... وزیراعظم کی عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے قرضوں میں ریلیف کے فیصلے کی تعریف

وزیر اعظم عمران خان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بینک اور جی 20 ممالک کی جانب سے ترقی پذیر  ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف کے اقدامات کو سراہا ہے۔

 اسلام آباد میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیراعظم عمران خان سے ان کے آفس میں ملاقات کی اور انہیں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب 40 کروڑ ڈالر  قرض کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے  آئی ایم ایف،عالمی بینک اور دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کےگروپ (جی 20)کی جانب سے ترقی پذیر ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کی تعریف کی۔

مشیرخزانہ نے وزیراعظم کو  کورونا سے متعلق حکومت کے ریلیف پیکج کی اہم جزویات سے بھی آگاہ کیا۔

خیال رہے کہ جی 20 ممالک پاکستان سمیت 76 ملکوں کے 40 ارب ڈالرز کے قرضے منجمد کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔

 آئی ایم ایف کے مطابق  قرضے ایک سال کے لیے منجمد کرنے کا مقصد کورونا وائرس سے متاثر ترقی پذیر ممالک کو صحت و معاشی مسائل سے نمٹنے میں مدد دینا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ریلیف سے پاکستان کے 12ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی مؤخر ہوگی، پاکستان کے ذمہ آئی ایم ایف،عالمی بینک، اے ڈی بی، اسلامی ترقیاتی بینک اور پیرس کلب کے تقریباً 12 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو رواں سال تقریباً 40 ارب ڈالرز کے قرضے واپس کرنے ہیں تاہم کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک نے آئی ایم ایف سے قرضے منجمد کرنے کی درخواست کی تھی۔

alphanew