’بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کی گنجائش 2 سے بڑھا کر 8 ہزار کررہے ہیں‘ ’بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کی گنجائش 2 سے بڑھا کر 8 ہزار کررہے ہیں‘
اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے گنجائش کو 2 ہزار سے بڑھا... ’بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کی گنجائش 2 سے بڑھا کر 8 ہزار کررہے ہیں‘

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے گنجائش کو 2 ہزار سے بڑھا کر8 ہزارکرنےجا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، ایک لاکھ سے زائد اموات ہوچکیں،  اس سے گلوبل اکانومی متاثر ہو چکی ہے، کورونا سے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ترقی پذیر ممالک کی وکالت کر رہا ہوں،  ترقی پذیر ممالک کے پاس مالیاتی گنجائش نہیں ہے کیونکہ کورونا سے 3 فیصد معیشت گری تو 9 ٹریلین ڈالر کا فرق پڑے گا، دنیا میں برآمدات متاثر ہو گئیں اور ترسیلات زر بھی متاثر ہوں گی۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ قرضوں میں ریلیف کے فیصلے پر یکم مئی سے عملدرآمد ہو جائے گا، جی 20کے فیصلے سے پاکستان کو مالیاتی گنجائش ملے گی، جی 20 نے کہا ہے کہ جتنے فسکل ٹولز ہیں ان کو بروئے کار لایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ اوور سیز پاکستانیوں کو لانے کے لیے ٹیسٹنگ کرنا ہے، چاہتے ہیں کہ بیرون ملک پھنسے تمام پاکستانیوں کو لایا جائے، ان کے لیے کرائسز مینجمنٹ سیل قائم کیا ہے، 20 اپریل سے انہیں واپس لانے کے لیے گنجائش کو 2 ہزار سے بڑھا کر8 ہزارکرنےجا رہے ہیں، سفارت خانوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں سے تعاون کریں۔

یقین ہے کہ سندھ حکومت بھی نیک نیتی سے کام کر رہی ہے: شاہ محمود

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے اتفاق رائے کے لیے قومی رابطہ کمیٹی قائم کی ہے جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے اور اجلاس میں وزیر اعظم سب سے پہلے مراد علی شاہ کی بات سنتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری نیت سب کو لے کر چلنے کی ہے اور سندھ ہماری اہم اکائی ہے، ہم اسے مایوس نہیں کرنا چاہتے، یقین ہے کہ سندھ حکومت بھی نیک نیتی سے کام کر رہی ہے، 18 ویں ترمیم کے مطابق وزیراعلٰی سندھ کو اختیار حاصل ہے وہ جو چاہیں اقدام اٹھائیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ زراعت سے متعلق کہا گیا تھا کہ آپ کالا چشمہ پہنیں اور میں نے کالا چشمہ پہن لیا تھا۔

alphanew