85 سال میں پہلی بار فربہ سیاہ فام خاتون ’ووگ‘ میگزین کے سرورق کی زینت بن گئیں 85 سال میں پہلی بار فربہ سیاہ فام خاتون ’ووگ‘ میگزین کے سرورق کی زینت بن گئیں
شہرہ آفاق فیشن میگزین ’ووگ‘ نے 85 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک فربہ سیاہ فام خاتون کو سرورق کی زینت بنا دیا۔ غیر... 85 سال میں پہلی بار فربہ سیاہ فام خاتون ’ووگ‘ میگزین کے سرورق کی زینت بن گئیں

شہرہ آفاق فیشن میگزین ’ووگ‘ نے 85 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک فربہ سیاہ فام خاتون کو سرورق کی زینت بنا دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فیشن میگزین ’ووگ‘ نے اپنے اکتوبر کے شمارے کے لیے فربہ اور سیاہ فام 32 سالہ امریکی گلوکارہ لیزو کو منتخب کیا ہے۔

’ووگ‘ نے اکتوبر کے شمارے میں فربہ سیاہ فام گلوکارہ کو سرورق کی زینت بنانے کے حوالے سے ان کا انٹرویو بھی کیا ہے۔

امریکی گلوکارہ لیزو نے ’ووگ‘ کو دیے جانے والے انٹرویو میں کُھل کر سیاہ فام افراد اور خصوصی طور پر خواتین کے ساتھ امریکا میں ہونے والے امتیازی سلوک پر بات کی۔

لیزو نے انٹرویو کے دوران گزشتہ چند سالوں میں دنیا بھر میں خواتین کے حوالے سے ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا اعتراف بھی کیا اور ساتھ ہی بتایا کہ ان تبدیلیوں کو غلط استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

گلوکارہ نے بتایا کہ گزشتہ چند سالوں میں انتہائی موٹی خواتین کی جسامت کو قبول کرنے کے حوالے سے مہم بھی چلائی جا رہی ہے لیکن حیران کن طور پر اس مہم میں سرگرم دکھائی دینے والی زیادہ تر لڑکیاں یا خواتین دبلی پتلی، اسمارٹ اور پُرکشش ہوتی ہیں۔

لیزو نے مزید کہا کہ باڈی پازیٹو مہم ہائی جیک ہوچکی ہے اور اسے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

alphanew