بھارت میں 11 ہندوؤں کا قتل: پاکستانی ہندو کمیونٹی کا دوسرے روز بھی احتجاج بھارت میں 11 ہندوؤں کا قتل: پاکستانی ہندو کمیونٹی کا دوسرے روز بھی احتجاج
بھارت میں 11 پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف ہندو کمیونٹی دوسرے روز بھی احتجاج کر رہی ہے۔ گزشتہ ماہ بھارتی ریاست راجستھان کے... بھارت میں 11 ہندوؤں کا قتل: پاکستانی ہندو کمیونٹی کا دوسرے روز بھی احتجاج

بھارت میں 11 پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف ہندو کمیونٹی دوسرے روز بھی احتجاج کر رہی ہے۔

گزشتہ ماہ بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جودھ پور میں امیگریشن کی غرض سے کئی سال قبل بھارت منتقل ہونے والے پاکستانی ہندو خاندان کے 11 افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔

قتل ہونے والے ہندو خاندان کے ایک فرد کی بیٹی نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی ہندو خاندان کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ نہ بننے پر قتل کیا گیا۔

حکومت پاکستان نے بھارت سے ہندو خاندان کے قتل کی تحقیقات سے آگاہ کرنے اور پاکستان کو بھی تحقیقات میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے تاہم بھارت کی جانب سے تاحال تحقیقات سے پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں رہائش پزیر ہندو کمیونٹی نے بھی بھارت میں پاکستانی ہندو خاندان کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سرپرست اعلیٰ پاکستان ہندو کمیونٹی ڈاکٹر رمیش کمار نے دو روز قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، بھارت میں ہندو پاکستانی ہندو کمیونٹی کے قتل پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

پاکستانی ہندو کمیونٹی نے گزشتہ روز بھی اسلام آباد میں چار مختلف مقامات پر مظاہرے کیے تھے اور مظاہرین رات آرام کے بعد دوبارہ ڈپلومیٹک انکلیو کے سامنے جمع ہو گئے ہیں، بھارت میں قتل ہونے والے ہندوؤں کے ورثاء بھی مظاہرین کے ساتھ موجود ہیں۔

گزشتہ روز اسلام آباد میں مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے رمیش کمار کا کہنا تھا کہ بھارت خود کو سیکیولر ریاست کہتا ہے لیکن 11 پاکستانی ہندوؤں کے قتل نے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے جب کہ مظاہرین کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

alphanew