سپریم کورٹ نےحکومت پنجاب کو گاڑیاں خریدنے سے روک دیا سپریم کورٹ نےحکومت پنجاب کو گاڑیاں خریدنے سے روک دیا
سپریم کورٹ نے حکومت پنجاب کو بجٹ میں گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص رقم استعمال کرنے سے روک دیا۔ سپریم کورٹ میں چیف... سپریم کورٹ نےحکومت پنجاب کو گاڑیاں خریدنے سے روک دیا

سپریم کورٹ نے حکومت پنجاب کو بجٹ میں گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص رقم استعمال کرنے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

پنجاب اور سندھ نے گزشتہ روز نئی گاڑیوں کی خریداری کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھیں۔  پنجاب حکومت نے گاڑیوں کی خریداری کے لیے 468 ملین روپے مختص کرنے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس میں سے 29 ملین سے محکمہ زراعت کے لئے گاڑیاں خریدی جائیں گی۔

آج سماعت کے دوران  چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کتنی لگژری گاڑیاں خرید رہی ہے؟   نہ ہی پنجاب حکومت نے بتایا نہیں کہ 500 ملین کی کون سی لگژری گاڑیاں امپورٹ کی جائیں گی؟ ایمبولینس ہے، کچرا گاڑی ہے یا پراڈو؟ کچھ معلوم نہیں۔

 چیف جسٹس نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈونرز سے قرض لے کر گاڑیاں خریدی جاتی ہیں۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز تو جاری نہیں کررہے، پھر یہ گاڑیاں کیسے خریدی جارہی ہیں؟

بعدازاں عدالت نے پنجاب حکومت کو بجٹ میں گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص رقم استعمال کرنے سے ہی روک دیا۔

alphanew