سیاہ فام جارج فلائیڈ کی موت کے باعث ٹوئٹر کے پروگرامنگ کوڈنگ میں تبدیلی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی موت کے باعث ٹوئٹر کے پروگرامنگ کوڈنگ میں تبدیلی
امریکا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی موت نے کمپیوٹر پروگرامنگ کی دنیا بھی بدلنا شروع کر دی۔  مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر اور امریکی... سیاہ فام جارج فلائیڈ کی موت کے باعث ٹوئٹر کے پروگرامنگ کوڈنگ میں تبدیلی

امریکا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی موت نے کمپیوٹر پروگرامنگ کی دنیا بھی بدلنا شروع کر دی۔

 مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر اور امریکی بینک جے پی مورگن نے اپنی کوڈنگ سے master ،slave اور blacklist جیسے الفاظ ہٹانا شروع کر دیے ہیں۔

کمپیوٹر پروگرامنگ میں ماسٹر ایسے کوڈ کو کہا جاتا ہے جو دوسرے کوڈ کوکنٹرول کرے جب کہ کنٹرول ہونے والا کوڈ slave کہلاتا ہے۔

اسی طرح بلیک لسٹ ایسی فہرست ہوتی ہے جس میں ممنوعہ اصطلاح اور الفاظ شامل ہوتے ہیں۔

ٹوئٹر اور جے پی مورگن اب اپنی کوڈنگ میں ماسٹر اور سلیو کی جگہ leader/follower جب کہ blacklist کی جگہ Denylist کی اصطلاح استعمال کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولس میں 25 مئی 2020 کو سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں 45 سالہ سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ ہلاک ہوگیا تھا۔

مینی پولس میں سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس نے امریکا اور برطانیہ کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

بعدازاں فیس بک سمیت کئی کمپنیاں بھی سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر ہونے والے احتجاج میں بھی شریک ہو گئیں اور پھر blacklivesmatter  کے ذریعے جارج فلائیڈ کیلئے انصاف اور سیاہ فاموں کے حقوق کا مطالبہ کیا گیا جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

alphanew