کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، 4 دہشتگرد مارے گئے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، 4 دہشتگرد مارے گئے
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ 4 دہشتگرد بھی... کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، 4 دہشتگرد مارے گئے

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ 4 دہشتگرد بھی مارے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 مسلح افراد نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

پولیس کا کہنا ہےکہ دستی بم حملے اور فائرنگ میں 4 افراد زخمی ہوئے جن میں پولیس اہلکار، اسٹاک ایکسچینج کا سیکیورٹی گارڈ اور 2 شہری شامل ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس کا بتانا ہےکہ دہشت گردوں کے حملے میں 2 شہری جاں بحق بھی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکار اسٹاک ایکسچینج میں داخل ہوچکے ہیں اور جوابی کارروائی میں 3 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے جب کہ ایک دہشت گرد اب بھی اسٹاک ایکسچینج کے اندر موجود ہے جس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی علاقوں کا بھی مکمل محاصرہ کرلیا ہے جب کہ حملے کے بعد آئی آئی چندریگر روڈ کو میری ویدرٹاور اور شاہین کمپلیکس سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق حملے میں اب تک 5 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں 2 عام شہری جاں بحق ہوئے جب کہ 3 دہشت مارے گئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشت گرد جدید اسلحہ سے لیس تھے اور ان کے پاس بارودی مواد سے بھری جیکٹیں بھی موجود تھیں۔

ڈائریکٹر پاکستان اسٹاک ایکسچینج عابد علی حبیب نے جیونیوز سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا میں آئے اور اندھا دھند فائرنگ کی، ہمارے گارڈز نے دہشتگردوں سے مزاحمت کی۔

ڈائریکٹر اسٹاک ایکسچینج کی گفتگو

عابد علی حبیب نے بتایا کہ دہشتگردوں نے اسٹاک ایکسچینج کے گراؤنڈ اور ٹریڈنگ ہال میں بھی فائرنگ کی جس سے بھگدڑ مچ گئی اور لوگ آس پاس کی عمارتوں میں گھس گئے۔

عابد علی حبیب کا کہنا تھا کہ تقریباً 200 میں سے 150 ممبران کے پرائمری دفاتر اسٹاک ایکسچینج میں موجود ہیں، ہم نے واقعے کے بعد خود کو دفاتر میں بند کرلیا ہے۔

نوٹ: یہ ایک بریکنگ نیوز ہے جس میں مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں۔

alphanew