کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ 2 ہفتے گھر بیٹھ کہ گزارا کرسکے : رانا ثناء کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ 2 ہفتے گھر بیٹھ کہ گزارا کرسکے : رانا ثناء
پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن سےکوئی فائدہ نہ اٹھاسکی بلکہ لوگوں کوگھروں... کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ 2 ہفتے گھر بیٹھ کہ گزارا کرسکے : رانا ثناء

پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن سےکوئی فائدہ نہ اٹھاسکی بلکہ لوگوں کوگھروں تک محدود کردیا۔

اپنے ایک بیان میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ 2 ہفتے گھر بیٹھ کہ گزارا کرسکے اور حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع سے عوام کو ہر چیز سے محروم کردیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت لاک ڈاؤن سےکوئی فائدہ نہ اٹھاسکی بلکہ لوگوں کوگھروں تک محدود کردیا، حکومت لاک ڈاؤن سے قبل تیاری کرتی جبکہ سندھ اور وفاق میں کنفیوژن کی وجہ سے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔

ان کا کہنا ہے کہ روزانہ 20 سے 25 ہزار افراد کے ٹیسٹ ہونے چاہیے تھے، روزانہ ٹیسٹ سے مشتبہ لوگوں کو الگ اور باقی لوگوں کو کاروبار کرنے دیتے لیکن حکومت نے لاک ڈاؤن سے لوگوں کا وقت ضائع کیا۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھاکہ اگر وزیراعظم اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ بیٹھا کر لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے تو لاک ڈاؤن بھی 100فیصد ہوتا لیکن اب لوگوں کے معاشی حالات ایسے نہیں کہ وہ مزید گھر بیٹھ سکیں، کورونا کے خوف سے زیادہ یہاں بھوک کا خوف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی 50 فیصد آبادی روز کماتی اور روز کھاتی ہے، ملک کی آبادی کے صرف 2 سے 4 فیصد افراد دو سے 6 ماہ گھر بیٹھ کر گزارا کر سکتے ہیں، حکومتی لاک ڈاؤن سے لوگوں کے کاروبار بند ہو چکے ہیں اور انہیں ہر چیز سے محروم کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کردی ہے جبکہ کچھ صنعتوں کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ کھولنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب ملک میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب تک 100 سے زائد افراد مہلک وائرس کا شکار بن چکے ہیں جبکہ 6 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔

alphanew