اب کسی نے ذاتیات پر بات کی تو ایوان سے نکال دوں گا، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اب کسی نے ذاتیات پر بات کی تو ایوان سے نکال دوں گا، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ارکان اسمبلی کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ کوئی کسی کی ذات پر بات کرے گا تو... اب کسی نے ذاتیات پر بات کی تو ایوان سے نکال دوں گا، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ارکان اسمبلی کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ کوئی کسی کی ذات پر بات کرے گا تو وہ اسے ایوان میں نہیں بیٹھنے دیں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ سب ارکان سے گزارش ہے کہ ذاتیات پر بات نہ کریں، سیاسی بات ہونی چاہیے، ہم لوگ اپنا مذاق خود اڑاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اخلاق سے گری ہوئی بات نہیں کرنی چاہیے، آئندہ کوئی بھی کسی کی ذات پر بات کرے گا تو اسے  ایوان میں بیٹھنے نہیں دوں گا۔

قبل ازیں آج ایوان کی کارروائی کے دوران اسپیکر اسد قیصر نے بھی کہا تھا کہ بعض ارکان ایسے الفاظ ادا کرتے ہیں جس سے ایوان کی توہین ہوتی ہے اور گزشتہ روزعبدالقادر پٹیل نے ایسے الفاظ ادا کیے جو ایوان کے تقدس کے منافی ہیں۔

اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر کو قاعدہ 20،21 کے تحت ایسے رکن کو ایوان سے باہر نکالنے اور سیشن کے دوران رکنیت معطل کرنےکا اختیارحاصل ہے۔

اس دوران پیپلزپارٹی کے رکن سید نوید قمر نے نشاندہی کی کہ گزشتہ روز جو باتیں کی گئیں اس میں حکومتی رکن بھی شامل تھے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایوان کی کارروائی بہتر طریقے سے چلے لیکن آپ نے صرف ایک ممبر کا نام لیا ہے، آپ کو دونوں سائیڈز کو دیکھنا ہوگا۔

اس پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ میں کہہ رہاہوں حکومتی رکن یا کوئی بھی ہو کسی کو ایوان کی توہین کی اجازت نہیں، کسی کو بھی ایسے الفاظ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جن سے ارکان کی توہین ہو۔

اس حوالے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ زبان کا استعمال دونوں طرف سے ہوتا ہے لہٰذا ایک رکن کی نشاندہی کرنا مناسب نہیں، ہر رکن کو پابندی کرنی چاہیے اور کسی کی ذات کو زیر بحث لانا غیر مناسب ہے۔

خیال رہے کہ 23 جون 2019 کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ایوان میں وزیراعظم عمران خان کے لیے ’سلیکٹڈ‘ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

alphanew