وزیراعظم اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کیخلاف کھل کرسامنے آ گئے ہیں: بلاول وزیراعظم اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کیخلاف کھل کرسامنے آ گئے ہیں: بلاول
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے خلاف کھل کر... وزیراعظم اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کیخلاف کھل کرسامنے آ گئے ہیں: بلاول

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب سے وبا آئی ہے ہر متنازع مسئلے کو اٹھایا جا رہا ہے، امید تھی کہ وفاق کی طرف سے ہرصوبے کے لیے ہیلتھ پیکیج ہوگا، لیکن پنجاب سمیت دیگر صوبوں کو اپنے حصے کے پورے پیسے نہیں ملے، سندھ کو 229 ارب کم دیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ ایک وبا کا بجٹ ہوگا، لیکن ایسا دکھایا گیا جیسے کورونا پاکستان کے لیے مسئلہ ہی نہیں ہے، بجٹ میں ٹڈیوں کے مسئلے کو بھی نظر انداز کیا گیا، وفاق چاہتا ہے کہ صوبائی حکومت خود ٹڈیوں کا مقابلہ کرے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بجٹ میں سندھ کو 229 ارب کم دیے جا رہے ہیں، آپ کہتے ہیں کہ صوبے خود مقابلہ کریں مگر پیسا کم دیا جاتا ہے، صرف سندھ نہیں دیگر صوبوں کو بھی کم پیسا ملا۔

ان کا کہنا تھا یہ وقت تھا کہ تاریخی چیلنجز کا مل کر سامنا کیا جاتا، لیکن پی ٹی آئی کا بجٹ عوام کو سپورٹ نہیں دے رہا، فلاح بہبود کے لیے انہوں نے زیادہ کے بجائے کم پیسا رکھا ہے، اس وقت غریبوں کے بجائے ورکنگ کلاس اور سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے، لیکن حکومت نے بجٹ میں نہ ریلیف، نہ معیشت نہ صحت اور نہ ہی عوام کو سپورٹ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وفاقی بجٹ کو ساری سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مشکل صورت حال میں ہم نےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا، فخر کرتا ہوں کہ سندھ نے مشکل کے باوجود کام کرنے والوں کو سپورٹ کیا، بجٹ میں صحت کے شعبے میں ایک بڑا حصہ رکھا گیا ہے، بیروزگاروں کے لیے بھی اسٹیپنڈ فنڈ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ جتنا پیسہ آپ کے پاس ہے آپ عوام کو سپورٹ کریں، معیشت مستحکم نہ ہو سکی، وفاقی حکومت نے صحت پر کام نہیں کیا۔

کورونا وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا جب سے یہ وبا ملک میں پہنچی پہلا قدم میں نے اٹھایا، میں نے پارٹی سرگرمیاں ختم کیں، شہید بھٹو کی برسی کی تقریب منسوخ کی، ہم نے اس وبا کے دوران کسی قسم کی سیاست نہیں کی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ انٹرویو اور پریس کانفرنسز کے دوران سیاسی بات نہیں کرتا تھا، اس کے جواب میں وزیر اعظم اور ان کے ترجمانوں نے سیاست کی، اس کے جواب میں سندھ حکومت، ڈاکٹرز اور نرسز پر بیان بازی کی گئی، عوام کا پیسہ دوسری جگہ خرچ ہورہا ہے،عوام کی صحت پرنہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اس صورت میں عوام باہر نکلے تو کوئی نہیں سنبھال سکے گا، امریکا میں سیاہ فام پولیس کے ہاتھوں قتل ہوا پورا ملک احتجاج کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اپنی روایت تبدیل کرے، ہم چاہتے ہیں کہ آئینی فورم پر مسائل حل ہوں، کئی بار این ایف سی کا مسئلہ اٹھانے پر بھی جواب نہیں دیا گیا۔

اپوزیشن کی حکمت عملی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ انشااللہ جلد شہباز شریف صحت یاب ہوں گے تو آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی، اس کے بعد ہی متحدہ اپوزیشن کا ایک واضح بیان سامنے آئے گا، کل بھی اپوزیشن کا مشترکہ بیان سامنے آیا تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پی ایف سی کو تحفظ ملے اور پورا این ایف سی ایوارڈ دیا جائے، جب پورا حصہ نہیں ملے گا تو ہر ضلع کو کیسے اس کا حق ملےگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر لوگ این ایف سی ایوارڈ، اٹھارویں ترمیم پر باہر نکلے تو حکومت ان کوسنبھال نہیں پائے گی، اگر لوگ لاپتا افراد، ٹارگٹ کلنگ اور معاشی صورت حال پرگھروں سے باہر نکلے تو حکومت ان کو بھی سنبھال نہیں پائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم نے کورونا کے معاملے پرسیاست کی جب کہ این ایف سی ایوارڈ کا نوٹی فکیشن غیرقانونی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فائزعیسیٰ کیس میں جج کی جاسوسی کا معاملہ سامنے آیا ہے جو انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، ججز کی جاسوسی کے معاملے پرجے آئی ٹی بننی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے معاملے پروزیراعظم اور وفاقی وزرا وزیراعلیٰ سندھ اور ڈاکٹرز پرتنقید کرتے رہے،

پی ٹی آئی اپنی روایت بدلے اورسنجیدگی سے چیلینجز کا سامنا کرے، دنیا بھرمیں بحران کے دوران ملکی قیادت یکجا ہوجاتی ہے،

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے معاشرے کے ہرطبقے میں کرپشن موجود ہے، لیکن حکومت کی یہ مہم کرپشن کوختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ دوسرے مقصد کے حصول کے لیے ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم ملکراس وبا کا مقابلہ کریں گے، وبا کے دوران وفاقی حکومت نے اسپتالوں پر حملہ کیا، حالانکہ پی ٹی آئی کی اپنی کابینہ نے کہا تھا کہ اسپتال صوبوں کا معاملہ ہے، اگر اس وقت یہ اسپتال وفاق کے پاس گئے تو تمام لنک ختم ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس پیسہ ناکافی ہے، حکومت ان اسپتالوں کو کیسے سنبھالے گی، پی ٹی آئی حکومت کو چینلج کرتا ہوں کہ این آئی سی وی ڈی کے مقابلے کا ایک اسپتال دکھائیں، این آئی سی وی ڈی پوری دنیا میں سب سے زیادہ دل کے مفت آپریشن کرتا ہے، انسانیت کی خاطر ان کو اس طرح کا حملہ اس وقت نہیں کرنا چاہے تھا، اگر این آئی سی وی ڈی طرزکا ایک بھی اسپتال دکھا دیا تو تینوں اسپتال آپ کے حوالے کر دیں گے۔

وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں، وہ 1973کےآئین کے خلاف بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر وزیراعظم نے کیا باتیں کیں، وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ کو آمر قرار دیا۔

alphanew