‏چینی مافیا کے بعد اب منافع خور گندم مافیا بھی سر اٹھانے لگا ‏چینی مافیا کے بعد اب منافع خور گندم مافیا بھی سر اٹھانے لگا
 چینی مافیا کے بعد اب منافع خور گندم مافیا بھی سر اٹھانے لگا ہے ۔ حکومت بروقت اقدامات کرنے چاہیں ۔ عوامی سماجی حلقوں... ‏چینی مافیا کے بعد اب منافع خور گندم مافیا بھی سر اٹھانے لگا

 چینی مافیا کے بعد اب منافع خور گندم مافیا بھی سر اٹھانے لگا ہے ۔ حکومت بروقت اقدامات کرنے چاہیں ۔ عوامی سماجی حلقوں کی طر ف سے حکام بالا، ڈی سی جہلم اور اے سی سوہاوہ سے نوٹس لے کر راست اقدام کا مطالبہ ۔

تفصیلات کے مطابق اس فصل ربیع کی پیداوار ی گندم کا سرکاری نرخ 1400/-روپے فی 40کلو گرام مقرر کیا گیا ۔ پیداوار کے صرف ایک ماہ کے وقفے کے بعد شہر و دیہات میں گندم جو ہر فرد کی بنیادی ضرورت ہے کا نرخ 1400/-روپے کی 40کلو گرام کی بجائے 1700/-سے 1800/-فی 40کلو گرام کے حساب سے خریدنے کے لئے کم آمدنی والے ملازمین دیگر شہریوں کو مجبور کی جارہاہے۔

شہری اور دیہی علاقوں میں چند منافع خور پیدا ہو چکے ہیں جو عام کسانوں سے 1400/-روپے سے زاہد قیمت پر گندم خرید کر اپنے پاس ذخیرہ کر رہے ہیں اور مزید 400/-روپے تک ناجائز منافع لگا کر کم آمدنی والے شہریوں کو لوٹ رہے ہیں ۔

عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ناانصافی اور خود ساختہ مہنگائی نہیں تو اور کیا ہے کیونکہ حکومت وقت عوام کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں پہلے ہی ناکام ہو چکی ہے مزید اب عوام کو ان لٹیروں کے منہ کی خوراک بننے پر مجبور کر رہی ہے ۔

عوامی سماجی حلقوں کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ، کمشنر راولپنڈی ڈویژن ، ڈی سی ضلع جہلم اور اے سی سوہاوہ سے پر زور مطالبہ کیا گیا ہے کہ خفیہ طریقے سے انتظامیہ کو شہر ی اور دیہی علاقوں سروے کر کے ان منافع خور درندوں کو منظر عام پر لاکر سر کوبی کا بندوبست کرنا چاہیے ۔نیز عوام دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے گندم کے سرکاری گوداموں سے عام شہریوں کے لئے خوردہ سرکاری نرخوں میں چندا ں اخراجات باربرداری شامل کر فروخت کے لئے سہولت فراہم کرنے پر غور کرنا چاہیے ۔

رپورٹ عبدالرحمان گجر

alphanew