لندن میں عمران خان کی 6 اور شہزاد اکبر کی 5 جائیدادیں ہیں: سپریم کورٹ میں مزید دستاویزات جمع لندن میں عمران خان کی 6 اور شہزاد اکبر کی 5 جائیدادیں ہیں: سپریم کورٹ میں مزید دستاویزات جمع
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست میں مزید دستاویزات جمع کرا دیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی... لندن میں عمران خان کی 6 اور شہزاد اکبر کی 5 جائیدادیں ہیں: سپریم کورٹ میں مزید دستاویزات جمع

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست میں مزید دستاویزات جمع کرا دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نیازی کے نام پر برطانیہ میں 6 اور شہزاد اکبر کے نام پر 5 جائیدادیں ہیں اور یہ معلومات برطانوی لینڈ ریکارڈ کے سرچ انجن 192 ڈاٹ کام سے لی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے مطابق میرے اہلخا نہ کی جائیدادیں بھی اسی ویب سائٹ سے تلاش کی گئیں، جواب میں کہا گیا کہ شہزاد اکبر کے نام پر برطانیہ میں پانچ، ذوالفقار بخاری کے نام پر 7 جائیدادیں ہیں جب کہ عثمان ڈار اور فردوس عاشق اعوان کے نام پر بھی برطانیہ میں جائیدادیں ہیں، اس کے علاوہ جہانگیر ترین اور پرویز مشرف بھی برطانیہ میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ الزام نہیں لگاتا کہ حکومتی شخصیات نے جائیدادیں ناجائز ذرائع سے بنائیں، ایف بی آر تعین کرے کہ حکومتی شخصیات نے کتنی قابل ٹیکس آمدن ظاہر کی، اسٹیٹ بنکا بھی تعین کرے کیا حکومتی شخصیات نے پیسہ جائز طریقے سے بیرون ملک بھیجا؟

درخواست میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ اور اس کے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دینے اور شہزاد اکبر اور اے آر یو کے ماہر انٹرنیشنل کریمنل لا ضیا المصطفی نسیم سے تمام تنخواہیں اور مراعات واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ریفرنس میں کئی خامیاں ہیں، اگر ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہوا تو اسے خارج کر دیا جائے گا۔

شہزاد اکبر کی تردید

دوسری جانب شہزاد اکبر نے ایک ٹوئٹ میں بیرون ملک کوئی بھی جائیداد رکھنے کی تردید کی ہے۔

alphanew