’شہباز شریف تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا ملک سے فرار ہونے کا خدشہ ہے‘ ’شہباز شریف تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا ملک سے فرار ہونے کا خدشہ ہے‘
 قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور  مسلم لیگ ن کے صدر شہباز  شریف کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت خارج کرانے کے لیے... ’شہباز شریف تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا ملک سے فرار ہونے کا خدشہ ہے‘

 قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور  مسلم لیگ ن کے صدر شہباز  شریف کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت خارج کرانے کے لیے نیب نے لاہور ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا۔ 

نیب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرایا گیا جواب 50 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کے منی لانڈرنگ اور دیگر ذرائع سے بنائے گئے اثاثوں کی کل مالیت 7 ارب 17 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ شہباز شریف خاندان کے 1990 میں اثاثوں کی مالیت صرف 20 لاکھ کے قریب تھی۔ 

نیب نے کہا کہ منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائیکورٹ حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کر چکا ہے جب کہ شہباز شریف تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا ملک سے فرار ہونے کا خدشہ ہے۔

 نیب نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں لہذا شہباز شریف اور دیگر اہلخانہ کے خلاف نیب منی لانڈرنگ کیس میں تمام قانونی تقاضے پورے کر رہا ہے۔ 

منی لانڈرنگ سے متعلق فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کو بھی نیب کے تفصیلی جواب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ 

 نیب کے جواب میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں نے 9 انڈسٹریل یونٹس سے 10 برسوں میں اربوں کے اثاثے بنائے، شہباز شریف خاندان کے مکمل اثاثے سال 2000 میں صرف 6 کروڑ کے لگ بھگ تھے، تحقیقات کے مطابق شہباز شریف نے اپنے فرنٹ مین، ملازمین اور منی چینجرز کے ذریعے اربوں روپے کے اثاثے بنائے۔ 

نیب جواب میں مزید بتایا گیا کہ شہباز شریف نے متعدد بے نامی اکاؤنٹس سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ بھی کی۔ 

 بعدازاں نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ شہباز شریف کی درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے اسے مسترد کیا جائے​۔

alphanew