بادشاہ سلامت سے لوٹ مار کا جواب مانگنے پر نیب برا ہوگیا: شہباز گل کا ردعمل بادشاہ سلامت سے لوٹ مار کا جواب مانگنے پر نیب برا ہوگیا: شہباز گل کا ردعمل
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی رابطہ کار شہباز گل نے اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے بیان پر ردعمل... بادشاہ سلامت سے لوٹ مار کا جواب مانگنے پر نیب برا ہوگیا: شہباز گل کا ردعمل

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی رابطہ کار شہباز گل نے اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین سے لیکر چپڑاسی تک (ن) لیگ کے لگائے ہوئے ہیں لیکن آج نیب اس لیے براہوگیا کہ اس نے بادشاہ سلامت سے لوٹ مار کا جواب مانگ لیا۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر مارلینا چاہیے، آج نیب اس لیے برا ہوگیا کہ اس نے بادشاہ سلامت سے لوٹ مار کا جواب مانگ لیا، 5 سال حکومت کے دوران نیب کی برائیاں کیوں نظر نہیں آئیں؟ سارے جہاں کے قصے انہیں یاد ہیں سوائے اس کے کہ اکاؤنٹس میں اربوں کون ڈال گیا؟

انہوں نے کہا کہ صرف یہ جواب دے دیں تو روز اِدھر اُدھر کی کہانی نہ سنانی پڑتی، جتنا مرضی رو پیٹ لیں، حساب تو دینا پڑے گا، جو مائیک توڑ کر کہتے تھے کہ کرپشن ثابت ہو تو پھانسی دے دیں لیکن اب وہ اپنے اکاؤنٹ میں اربوں روپے کون ڈال گیا کا جواب دینے سے بھاگ رہے ہیں۔

شہباز گل کا کہنا ہے کہ عمران خان سپریم کورٹ میں اپنی ایک ایک منی ٹریل جمع کروا چکے ہیں اور وہ پاکستان کے واحد سند یافتہ صادق اور امین ہیں، ان پر کرپشن کا الزام لگانا آسمان پر تھوکنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ دن گئے جب آپ ججوں کو فون کر کے فیصلے لیا کرتے تھے، اب پہلی بار ملی بھگت کے بغیر کیس لڑنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ آلِ شریف کی چور بازاریاں چھپانے کیلئے ان کے حواری اکٹھے ہو گئے، شہباز شریف کو صرف عبوری ضمانت ملی ہے، کلین چٹ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی دائمی منافقت اور بددیانتی ایک بار پھر آشکار ہو گئی، وہ کورونا وبا میں رش والے ماحول میں عدالت سے ریلیف لینے چلے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان تمام اثاثوں کی مکمل منی ٹریل عدالت اور اداروں کو پیش کر چکے لیکن اثاثوں کے ثبوت ہوتے تو لیگی رہنما آج آئیں بائیں شائیں نہ کر رہے ہوتے۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ  کابینہ اجلاس میں نواز شریف کے معاملے پر بحث ہوتی ہے، نیب حکومت اور وزیراعظم سے ہدایات لیتا ہے، چیئرمین نیب وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں، جس شخص کی وڈیو موجود ہو وہ غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔

دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) کو لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو 17 جون تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

گزشتہ روز نیب نے شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاث جات کیس میں طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے تو نیب کی ٹیم انہیں گرفتار کرنے گھر پہنچی تھی، اس دوران وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ 

alphanew