مکان نمبر 2، لین نمبر ایک، زمان پارک، پتہ کریں یہ اثاثہ کس کا ہے؟ شاہد خاقان مکان نمبر 2، لین نمبر ایک، زمان پارک، پتہ کریں یہ اثاثہ کس کا ہے؟ شاہد خاقان
سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ( نیب) حکومت کے... مکان نمبر 2، لین نمبر ایک، زمان پارک، پتہ کریں یہ اثاثہ کس کا ہے؟ شاہد خاقان

سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ( نیب) حکومت کے ہاتھوں بلیک میل ہورہاہے جبکہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال وزیراعظم عمران خان سے ہدایت لے رہےہیں۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب اور حکومت کی بدنیتی آج عوام کے سامنے آئی ہے، 20 ماہ سے شہبازشریف نیب کو تمام سوالوں کے جواب دے رہے ہیں اور 10 سے 15 مرتبہ تفتیش کیلئے پیش ہوئے جبکہ 70 دن نیب کی ریمانڈ اور اس کے بعد عدالتی تحویل میں بھی رہے لیکن آج تک ایک الزام بھی شہبازشریف پر ثابت نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 56 کمپنیوں، آشیانہ اور صاف پانی کے کیسز کا کیا ہوا؟ جب نیب کے پاس کچھ نہیں بچتا تو آخری کوشش کرتے ہیں جس کو آمدن سے زائد اثاثے کہتے ہیں، منی لانڈرنگ یا پھر کہتے ہیں کہ بے نامی ہوگئی ، یہ تین آخری حربے ہوتے ہیں۔

ان کاکہنا ہے کہ نیب شہبازشریف پر سرکاری پیسے میں خُرد برد ثابت تو کیا الزام تک نہیں لگا سکتا، شہبازشریف نے سب کچھ نیب کو دے دیا مزید جو مانگیں گے وہ بھی دیں گے، تفتیش کیمرے کے سامنے کریں تاکہ عوام کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے، صرف الزام لگانا اور ہتک کرنا مقصود ہے تو نیب آج سے نہیں 20 سال سے یہ کام کررہا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جب ملک کے ادارے بد نیتی پر اتر آئیں تو ملک کھوکھلا ہوجاتا ہے، چیئرمین نیب بتائیں کس مقصد کیلئے 28 مئی کو وارنٹ گرفتاری جاری کیے، شہباز شریف کو 2 جون کو طلب کیا ہے اور 28 مئی کو وارنٹ جاری کیے کیا یہ بدیانتی نہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ کیا نیب پاکستان کےعوام کو جواب دہ نہیں کیا؟ یہ بدمعاشی کا اڈہ ہے؟ کیا نیب کسی پر بھی الزام لگاسکتا ہے کسی کی بھی ہتک کرسکتا ہے؟ اگر یہ نیشنل اکاونٹیبلٹی بیورو ہے تو چیئرمین نیب کو آج ایک پتہ بتاتا ہوں، مکان نمبر2، لین نمبر ایک، زمان پارک، یہ پتہ کریں وہ اثاثہ کس کا ہے؟ ٹیم بھیجیں اورپاکستان کےعوام کو بتائیں کہ وہ اثاثہ کس کا ہے؟ کیا اس نے اس اثاثے کو ڈکلیئر کیا ہے؟ اس کی منی ٹریل ہے، کیا یہ آمدن سے زائد اثاثہ ہے یا نہیں؟

سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ میں آپ کو بی آر ٹی، گندم شوگر، ادویہ اسکینڈل کا ثبوت دے رہا ہوں، فارن فنڈنگ کیس بھی ہے جس میں کوئی کاغذ جمع نہیں ہوا اور جو وزارت خزانہ میں ہوا ہے وہ پاکستان کے عوام کو بتائیں، عوام کو بتائیں 13.25 فیصد کا پالیسی ریٹ کس نے جاری کیا فائدہ کس کو ہوا؟

انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں نواز شریف کے معاملے پر بحث ہوتی ہے، نیب حکومت اور وزیراعظم سے ہدایات لیتا ہے، چیئرمین نیب وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں، جس شخص کی وڈیو موجود ہو وہ غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ اسٹریچر پر لیٹا شخص ہی مریض نہیں ہوتا، اگر ہمیں جیلوں میں ڈال کر ملکی مسائل حل ہوتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔

اپوزیشن لیڈر کو بجٹ اجلاس میں شرکت سے روکنے کی کوشش ہورہی ہے، احسن اقبال

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری و سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نیب حکومت کا ذیلی ادارہ ہے جو حکومتی فرمائش پر کام کرتا ہے، اپوزیشن لیڈر کو بجٹ اجلاس میں شرکت سے روکنے کی کوشش ہورہی ہے جبکہ کورونا ایک ایمرجنسی کی شکل اختیار کر گیا ہے لیکن حکومت صرف اپوزیشن کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے پر تلی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ناکامیوں سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے، معیشت کورونا سے پہلے ہی تباہ ہوچکی تھی۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو 17 جون تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

گزشتہ روز نیب نے شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاث جات کیس میں طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے تو نیب کی ٹیم انہیں گرفتار کرنے گھر پہنچی تھی، اس دوران وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ 

alphanew