وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بڑے ائیر پورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کے معاملے پر غور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بڑے ائیر پورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کے معاملے پر غور
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کورونا وائرس سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد یقینی... وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بڑے ائیر پورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کے معاملے پر غور

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کورونا وائرس سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں  ملک کی مجموعی سیاسی اوراقتصادی صورتحال سمیت کوورنا وائرس اور دیگر معاملات پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں ملک کے بڑے ائیر پورٹس آؤٹ سورس کرنے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس سلسلے میں وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو کہ ائیرپورٹس سروسز آؤٹ سورس کرنے سے متعلق سفارشات تیار کرے گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کورونا وائرس سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کا جائزہ لیا گیا اور مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے وزیراعظم کو سپریم کورٹ کے احکامات پر بریفنگ دی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ نے صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے  ٹیلی میٹرز نصب کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔

وزیر اعظم نے پانی کی صوبوں کو منصفانہ تقسیم کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وزارت آبی وسائل پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل سے نمٹمے کیلئے حکومت پوری طرح مستعد ہے، حکومت نے ٹڈی دل حملے روکنے کیلئے پیشگی اقدامات شروع کر دیے تھے۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ اجلاس میں بڑے ائیرپورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا، ائیرپورٹس کے معامے پر لیگل فریم ورک کیلئے 30جون کی تاریخ رکھی گئی ہے۔

شبلی فراز نے بتایا کہ اس عمل کو فاسٹ ٹریک پر لانے کیلئے وزیر ہوابازی غلام سرور کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں زلفی بخاری ، رزاق داؤد بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین کی منظوری دی گئی، سابق چیئرمین خالد مرزا کو ممبر بورڈ بنایا گیا ہے۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں پانی اور صوبوں کا شیئر اور ارسا ایک دیرینہ مسئلہ ہے ،حکومت پانی کے حوالے سے ایک شفاف سسٹم لانا چاہتی ہے ،سندھ پنجاب اور فیڈرل ممبران کی کارکردگی کافی کمزور رہی ہے ، ان کے خلاف ایک انکوائری کی جائے، ایسے لوگ لائے جائیں جو ٹیلی میٹری سسٹم کو آگے بڑھائیں، ٹیلی میٹری سسٹم میں ریکارڈ ہوتا ہے کہ کس صوبے کو کتنا پانی دیا گیا ۔

alphanew